فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سرکاری دستوں نے بوستان القصر، بوستان الباشا اور الشیخ خدر کے علاقوں میں باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس میں ہفتے کے روز وہاں بہت سے "دہشت گردوں" کو ہلاک کر دیا۔
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ فوج نے حلب کے تین محلوں میں الگ الگ کارروائیوں کے دوران باغیوں کی متعدد کاروں کو بھی تباہ کر دیا ہے۔
شامی فوج حلب کے مزید محلوں کو حکومتی افواج کے خلاف برسرپیکار باغیوں سے پاک کرنے کی کوششیں تیز کر رہی ہے۔
شام مارچ 2011 سے بدامنی کا سامنا کر رہا ہے۔ دمشق کا کہنا ہے کہ بدامنی اور مہلک تشدد کے پیچھے 'غیرقانونی، تخریب کار اور مسلح دہشت گرد' محرک ہیں جب کہ حزب اختلاف سکیورٹی فورسز پر ہلاکتوں کے پیچھے ہونے کا الزام لگاتی ہے۔
مغربی ممالک شام کے صدر بشار الاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم روس اور چین بشار الاسد کو ہٹانے کی مغربی مہم کے سخت مخالف ہیں۔
شامی حکومت کا کہنا ہے کہ افراتفری ملک کے باہر سے آرکیسٹ کی جا رہی ہے، اور اطلاعات ہیں کہ مسلح جنگجوؤں کی ایک بہت بڑی تعداد غیر ملکی شہریوں کی ہے، جن میں زیادہ تر مصر، الجزائر، سعودی عرب اور افغانستان سے ہیں۔
(پریس ٹی وی)


